دنیا گزار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - دنیا دار، مطلبی شخص۔  پچہیں اہل دنیا کو لازم نہیں کہ ما دام ہوویں زدنیا گزار      ( ١٨٠٩ء، شاہ کمال، دیوان، ١١٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق 'دنیا' کے ساتھ فارسی مصدر 'گذاشتن' سے فعل امر 'گزار' بطور اسم فاعل لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٨٠٩ء کو شاہ کمال کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔